ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رام مندر کیلئے قانون، وزیر اعظم مودی کے سیاسی ترکش کا آخری تیر

رام مندر کیلئے قانون، وزیر اعظم مودی کے سیاسی ترکش کا آخری تیر

Mon, 22 Oct 2018 08:17:58    S.O. News Service

نئی دہلی،22؍اکتوبر(اایس او نیوز؍یجنسی) ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کیلئے پارلیمنٹ میں قانون بنائے۔

مندر مسجد کا یہ طویل تنازع مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے۔ عدالت عظمیٰ اس مقدمے کی سماعت اس مہینے کے اواخر سے شروع کر رہی ہے۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ عدالت جلد ہی اس مقدمے کا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ عدالت میں یہ مقدمہ زمین کے تنازع کا ہے۔ اسے اس امر کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ زمین جس پر 6 دسمبر 1992 تک بابری مسجد کھڑی تھی، اس زمین کی ملکیت کس کی ہے۔ یہ فیصلہ کسی کے بھی حق میں جا سکتا ہے۔دو ہفتے قبل سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے زیر اہتمام ملک کے سرکردہ ہندو سادھوؤں اور سنتوں کی ایک کانفرنس دلی میں منعقد ہوئی تھی۔ ان سادھوؤں نے بھی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون منظور کرے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی طرف سے بھی قانون بنانے کے مطالبے کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی آر ایس ایس کی سیاسی شاخ ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز آر ایس ایس کے نظریہ کی ترویج و تبلیغ سے کیا تھا۔ کیا مودی حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر مندر بنانے کے لئے قانون بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے؟بی جے پی اوراس کی ہمنوا جماعتوں اور تنظیموں میں یہ تاثر گھر کر رہا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت ملنا مشکل ہے۔ اس لئے موجودہ مودی حکومت کا یہ دور ایودھیا میں مندر کی تعمیر کا واحد سنہری موقع ہے۔ اگر مودی حکومت اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھاتی اور اسے آئندہ حکومت پر چھوڑ دیتی ہے تو اس سے اس کی ایک ہندو نواز جماعت کی شبیہ مجروح ہو گی اور اسے انتخابات میں بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ایودھیا کی متنازع زمین کے اطراف کی ایک بڑی اراضی مرکزی حکومت کافی پہلے قانون بنا کر اپنی تحویل میں لے چکی ہے۔ اگر مودی حکومت مندر بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں کوئی بل پیش کرتی ہے تو اس کی منظوری کے لئے اسے اپوزیشن کی حمایت کی بھی ضرورت پڑے گی۔اپوزیشن جماعتیں بحث ومباحثے میں یہ تو ضرور کہیں گی کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے لیکن وہ اس بل کی مخالفت کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ اس صورت میں بی جے پی انہیں ہندو اور مندر مخا لف قرار دے گی۔یہ بل اگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی حمایت نہ ملنے کے سبب منظور نہ ہو سکا تو یہ پارلیمانی انتخابات کا سب سے اہم موضوع ہوگا جس میں بی جے پی عوام کو یہی بتائے گی کہ یہ جماعتیں ہندو مخالف ہیں اور ان کی مخالفت کی وجہ سے رام مندر نہیں بن سکا۔

مودی کی قیادت میں بی جے پی نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کی توقعات کو بہت اونچائی پر پہنچا دیا تھا۔ 5 سال کے اپنے دور اقتدارمیں وہ بیشتر لوگوں کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ حکومت نے ایسا کوئی بڑا کام نہیں کیا جسے وہ آئندہ انتخابات میں اپنی بڑی کامیابی کے طور پر عوام کے سامنے پیش کر سکے۔بی جے پی کے پاس رام مندر ہی سیاسی ترکش کا آخری تیر ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یا قانون بنا کر، کسی بھی صورت میں اگر وہ مندر بنانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ قدم آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کو نئی سیاسی زندگی دے سکتا ہے۔اسی لئے 2019 کے انتخابات سے قبل مندر کی تعمیر کا سوال رفتہ رفتہ زور پکڑ رہا ہے۔ سیاسی منطق کا تجزیہ کریں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنانے کی تحریک زور پکڑنے والی ہے اور مذہب کی اس تلخ سیاست میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی ہندو قوم پرستی کی لہر کی زد میں ہوں گی۔


Share: